فاقہ کش

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بھوکا رہنے والا، بھوکا، کنگال۔ "اسلام کا آغاز جس بے اطمینانی اور بے سرو سامانی کے ساتھ ہوا اس سے کس کو اس وقت خیال ہو سکتا تھا کہ یہ چند نہتّے فاقہ کش غریب الدّیار، قیصر و کسریٰ کے تخت کو الٹ دیں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣، ٦٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق اسم 'فاقہ' کے بعد فارسی مصدر کشیدن سے مشتق صیغہ امر 'کش' بطور لاحقہ فاعلی لانے سے مرکب بنا۔ جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "مراءی میر انیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بھوکا رہنے والا، بھوکا، کنگال۔ "اسلام کا آغاز جس بے اطمینانی اور بے سرو سامانی کے ساتھ ہوا اس سے کس کو اس وقت خیال ہو سکتا تھا کہ یہ چند نہتّے فاقہ کش غریب الدّیار، قیصر و کسریٰ کے تخت کو الٹ دیں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٣، ٦٢٨ )